اشاعتیں

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 5)

اگر ہم کتابوں کی تعریفوں کو ایک طرف رکھ دیں اور اپنے اردگرد پھیلی اس کائنات کو کھلی آنکھوں سے دیکھیں، تو ہمیں معلوم ہوگا کہ محبت کرنا تو ہم نے اصل میں فطرت سے سیکھا ہے۔ فطرت کا ہر نظارہ ہمیں بغیر کچھ بولے محبت کا سچا مطلب سکھاتا ہے۔ اس تپتے ہوئے سورج کو دیکھیے جو دن بھر خود جلتا ہے تاکہ پوری دنیا کو روشنی اور زندگی دے سکے۔ ان درختوں پر غور کیجیے جو خود چلچلاتی دھوپ کا سامنا کرتے ہیں لیکن اپنے سائے میں بیٹھنے والے کو ہمیشہ ٹھنڈک اور سکون ہی دیتے ہیں۔ یہ بادل، یہ ہوائیں اور یہ پیاسی زمین کو سیراب کرتی بارش—یہ سب فطرت کا وہ بے غرض پیار ہی تو ہیں جو ہم سے بدلے میں کچھ نہیں مانگتے۔ اس کائنات کو بنانے والے نے جب یہ سارا نظام تیار کیا، تو اس نے خود اپنے لیے بھی سب سے پہلے جس صفت کو پسند فرمایا، وہ "رحمت اور محبت" ہی ہے۔ اس کی رحمت اتنی وسیع ہے کہ وہ اپنی مخلوق کی کوتاہیوں اور غلطیوں کو دیکھ کر بھی ان سے ان کا رزق، ان کی سانسیں اور ان کی زندگی کی نعمتیں نہیں چھینتا۔ کائنات کا مالک اگر چاہتا تو اس دنیا کو صرف ایک قانون کے تحت چلا سکتا تھا، لیکن اس نے اس مٹی کی دنیا میں محبت کا رنگ بھر...

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 4)

 اس دنیا میں جہاں ہمیں ہر طرف خوبصورت مناظر اور رنگ برنگے پھول نظر آتے ہیں، وہاں ایک دنیا ہمارے اندر بھی آباد ہے۔ ہماری اس اندرونی دنیا کا سب سے خوبصورت اور نایاب جذبہ "خلوص" ہے۔ خلوص ایک ایسی بے غرض کیفیت کا نام ہے جس میں کوئی دکھاوا، کوئی لالچ اور کوئی دنیاوی مطلب نہیں ہوتا۔ جب انسان کسی کے ساتھ سچے دل سے مخلص ہوتا ہے، تو وہ بدلے کی امید رکھے بغیر صرف دوسرے کی بھلائی اور خوشی چاہتا ہے۔ اگر ہم آج کل کے اس دور میں، جہاں ہر طرف خود غرضی کا راج ہے، ذرا رک کر غور کریں تو ہمارے دلوں کے اندر خلوص کی یہ شمع کس نے جلائی؟ انسان تو عام طور پر اپنا فائدہ اور نقصان سوچتا ہے، لیکن پھر اچانک اس کے دل میں یہ پیارا جذبہ کہاں سے آ جاتا ہے کہ وہ اپنے فائدے کو چھوڑ کر دوسروں کے دکھ درد میں تڑپنے لگتا ہے؟ ماں کی وہ بے لوث محبت، ایک سچے دوست کی بے غرض ہمدردی، اور کسی مجبور کو دیکھ کر دل میں جاگنے والا مدد کا احساس—یہ سب خلوص ہی کے تو الگ الگ روپ ہیں۔ دنیا کی بڑی بڑی پڑھائیاں اور سائنسی ایجادات ہمیں حساب کتاب کرنا تو سکھا سکتی ہیں، لیکن وہ دل کو دوسروں کے لیے دھڑکنا اور بے لوث ہونا نہیں سکھا سکتی...

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 3)

 کبھی کبھی جب تپتی دھوپ اور گرمی سے سب بے حال ہو رہے ہوتے ہیں، تو اچانک آسمان پر کالی گھٹائیں چھا جاتی ہیں۔ پھر جب بارانِ رحمت برستی ہے، تو صرف زمین ہی نہیں، ہمارا دل اور ذہن بھی ایک عجیب سے سکون اور تازگی سے بھر جاتا ہے۔ اگر ہم بارش کے اس خوبصورت نظام پر ذرا ٹھہر کر غور کریں، تو ہر بوند ہمیں اپنے خالق کی شفقت کا پتہ دیتی ہے۔ جب بارش کی پہلی بوند خشک مٹی پر گرتی ہے، تو ایک سوندھی اور مسحور کن خوشبو ہر طرف پھیل جاتی ہے۔ مٹی کی اس خاموش خوشبو کو ہمارے دل و دماغ کو سکون دینے کا ذریعہ کس نے بنایا؟ اسی طرح پتوں اور چھتوں پر بوندیں گرنے کی ایک مسلسل اور دھیمی آواز پیدا ہوتی ہے۔ سائنس کہتی ہے کہ یہ آواز انسان کے اعصاب اور دماغ کو حیرت انگیز طور پر پرسکون کرتی ہے۔ جو پانی پیاس بجھاتا ہے، اس کے گرنے کی آواز کو ہمارے لیے لوری کس نے بنا دیا؟ پرحیرت فلٹریشن پلانٹ کو دیکھیے؛ سورج کی گرمی سے جب سمندر کا کڑوا اور نمکین پانی بھاپ بن کر اوپر اڑتا ہے، تو نمک نیچے ہی رہ جاتا ہے۔ قدرت اس کڑوے پانی کو اوپر لے جا کر صاف کرتی ہے اور ہمارے لیے بالکل میٹھا اور شفا بخش بنا کر اتارتی ہے۔ یہ زبردست نظام کس نے...

درگزر کرنا اور خاموشیاں سمجھنا

 دنیا کا کوئی بھی انسان پرفیکٹ (کامل) نہیں ہے۔ ہم سب غلطیاں کرتے ہیں، ہم سب کے مزاج میں خامیاں ہوتی ہیں۔ ایسے میں کسی بھی رشتے کو طویل عرصے تک نبھانے کے لیے جس سب سے بڑی صفت کی ضرورت ہوتی ہے، وہ ہے درگزر کرنا (معاف کرنا)۔ اخلاص کا اصل امتحان تب نہیں ہوتا جب سب کچھ اچھا چل رہا ہو، بلکہ تب ہوتا ہے جب سامنے والے سے کوئی غلطی ہو جائے یا وہ آپ کی امیدوں پر پورا نہ اتر سکے۔ اگر ہم ہر چھوٹی بات پر گرہیں باندھنا شروع کر دیں، تو دلوں میں دوریاں اتنی بڑھ جاتی ہیں کہ پھر چاہ کر بھی فاصلے مٹائے نہیں جا سکتے۔ رشتوں میں گہرائی لانے کے لیے دو چیزیں بہت اہم ہیں: غلطیوں کو نظر انداز کرنا: ہر بات پر بحث کرنے کے بجائے کچھ باتوں کو مسکرا کر درگزر کر دینا رشتے کو مضبوط بناتا ہے۔ خاموشی کو سمجھنا: کبھی کبھی انسان لفظوں میں اپنی پریشانی بیان نہیں کر پاتا۔ ایک مخلص ساتھی وہ ہوتا ہے جو اپنے عزیز کی آنکھوں کی اداسی اور اس کی خاموشی کو پڑھ لے، اور بنا مانگے اس کا سہارا بنے۔ رشتوں کو جوڑ کر رکھنا ایک مسلسل محنت کا نام ہے، اور اس محنت کا بہترین صلہ وہ سکون ہے جو ہمیں اپنے پیاروں کے ساتھ رہ کر ملتا ہے۔ آئیے درگ...

لفظوں کی طاقت اور دھیما لہجہ

 کہتے ہیں کہ کمان سے نکلا ہوا تیر اور زبان سے نکلا ہوا لفظ کبھی واپس نہیں آتا۔ ہماری گفتگو، ہمارا اندازِ بیاں اور ہمارا لہجہ وہ اوزار ہیں جو کسی کے دل میں ہمارے لیے محبت کا محل بھی کھڑا کر سکتے ہیں اور سیکنڈوں میں اس محل کو زمین بوس بھی کر سکتے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ رشتوں میں نیت خراب نہیں ہوتی، لیکن لہجے کی تلخی سب کچھ برباد کر دیتی ہے۔ جب ہم غصے یا انا میں آ کر ایسے الفاظ استعمال کرتے ہیں جو سامنے والے کی عزتِ نفس کو مجروح کریں، تو وہ زخم وقت گزرنے کے باوجود بھی نہیں بھرتے۔ رشتوں کی اصلاح کے لیے سب سے پہلے اپنے لہجے کی اصلاح ضروری ہے۔ ایک با اخلاق اور مخلص انسان کا انداز کیسا ہونا چاہیے؟ دھیما اور نرم لہجہ: جب بات نرمی سے کی جائے، تو کڑوی بات بھی اثر کر جاتی ہے۔ دھیما لہجہ سامنے والے کے غصے کو بھی ٹھنڈا کر دیتا ہے۔ الفاظ کا درست انتخاب: بولنے سے پہلے ایک لمحے کے لیے سوچیں کہ اگر یہی الفاظ کوئی آپ کے لیے استعمال کرے، تو آپ کو کیسا لگے گا؟ اپنے رشتوں میں محبت کا درس دینے کے لیے ضروری ہے کہ ہماری زبان سے نکلنے والا ہر لفظ محبت اور احترام کا سفیر ہو۔ یاد رکھیں، اچھے الفاظ کا صدقہ...

رشتوں میں "میں" کے بجائے "ہم" کا سفر

 آج کی تیز رفتار اور مادی دنیا میں اگر ہم اپنے اردگرد گرتی ہوئی سماجی دیواروں اور ٹوٹتے ہوئے رشتوں کا گہرا مشاہدہ کریں، تو ان کے پیچھے ایک بہت بڑا سبب نظر آتا ہے: "میں" کی دیوار۔ جب کسی بھی رشتے میں اصرار صرف اپنی ذات، اپنی پسند، اپنی انا اور اپنی جیت پر ہونے لگے، تو وہاں سے خلوص رخصت ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ رشتوں کی خوبصورتی اور پائیداری کا راز اس بات میں چھپا ہے کہ ہم کب "میں" کے خول سے نکل کر "ہم" کے دائرے میں داخل ہوتے ہیں۔ "ہم" کا مطلب اپنی ذات کی نفی کرنا نہیں، بلکہ سامنے والے کے وجود، اس کے احساسات اور اس کی رائے کو اپنے برابر جگہ دینا ہے۔ جب دو لوگ مل کر کسی رشتے کی بنیاد رکھتے ہیں، تو وہاں کوئی مقابلہ (Competition) نہیں ہوتا، بلکہ ایک خوبصورت تعاون (Cooperation) ہوتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے رشتے مضبوط ہوں، تو ہمیں اپنی گفتگو اور سوچ میں تبدیلی لانی ہوگی: فیصلے کرتے وقت صرف یہ نہ سوچیں کہ "میری" خوشی کس میں ہے، بلکہ یہ دیکھیں کہ "ہماری" بہتری کس چیز میں ہے۔ رشتوں میں حاکم اور محکوم کا تصور ختم کر کے ایک دوسرے کا سچ...

فطرت کے شاہکار: وہ عظیم ہستی کون ہے؟ (قسط 2)

 ہم جب بھی کسی باغ یا کھیت سے گزرتے ہیں، تو ہمیں ہر طرف پودے اور درخت نظر آتے ہیں۔ یہ بے زبان مخلوق کتنی خاموشی سے ہمارے کام آ رہی ہے، اگر ہم اس پر غور کریں تو ہمارا دل شکر گزاری سے بھر جائے گا۔ ایک ننھے سے بیج سے لے کر پھل دینے والے درخت تک، قدرت کس طرح ان کی رہنمائی کرتی ہے؟ اندھیرے میں راستہ ملنا: مٹی کے گھپ اندھیرے میں دبے ہوئے بیج کو پتا ہوتا ہے کہ اسے اوپر روشنی کی طرف جانا ہے۔ وہ بغیر کسی آنکھ کے، مٹی کو چیرتا ہوا بالکل سیدھا اوپر نکلتا ہے، اور اس کی جڑیں پانی کی تلاش میں نیچے گہرائی کی طرف بڑھتی ہیں۔ اس نازک سے بیج کو یہ راستہ کس نے دکھایا؟ خاموشی سے خدمت کرنا: پودے زمین سے کڑوی مٹی اور نمکین پانی لیتے ہیں، لیکن بدلے میں ہمیں کیا دیتے ہیں؟ میٹھے اور رسیلے پھل، خوبصورت پھول، اور سب سے بڑھ کر وہ آکسیجن (سانس) جو ہمیں زندہ رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ پودے خود دھوپ میں جلتے ہیں، مگر ہمیں ٹھنڈی چھاؤں دیتے ہیں۔ ہر چیز کا ذائقہ الگ: ایک ہی مٹی ہے اور ایک ہی پانی، لیکن اسی پانی سے آم کا میٹھا رس بھی بنتا ہے، لیموں کا کھٹا ذائقہ بھی، اور مرچ کا تیکھا پن بھی۔ ان بے زبان پودوں کو یہ الگ...